دی نیٹ ورک صارفین کے تحفظ کا ادارہ نے نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) کی جانب سے جاری کی گئی نئی ریگولیشن 2025 پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان نئی ریگولیشنز کے تحت نیٹ میٹرنگ کے ذریعے سولر بجلی لگانے والے صارفین کے لیے نظام کا سائز کم کیا جا رہا ہے، معاہدے کی مدت گھٹائی جا رہی ہے اور سولر کی مالی افادیت کو محدود کیا جا رہا ہے، جس سے عام صارف کے لیے سولر لگانا مشکل ہو جائے گا۔
اگرچہ نیپرا کا مؤقف ہے کہ ان اقدامات کا مقصد صارفین اور بجلی کمپنیوں کے درمیان توازن قائم کرنا ہے، لیکن حقیقت میں یہ نئی ریگولیشن گھریلو صارفین اور چھوٹے کاروباروں کے لیے سولر اپنانے کی حوصلہ شکنی کرے گی اور پاکستان میں صاف توانائی کے فروغ کو نقصان پہنچائے گی۔
نیپرا خود تسلیم کر چکا ہے کہ بجلی کی تقسیم کار کمپنیاں اکثر ناقص سروس فراہم کرتی ہیں، غیر ضروری سرچارجز لگاتی ہیں اور بجلی کی فراہمی غیر یقینی رہتی ہے۔ ان مسائل کو حل کرنے کے بجائے نئی ریگولیشن کا بوجھ ان صارفین پر ڈالا جا رہا ہے جنہوں نے مہنگی بجلی اور لوڈشیڈنگ سے بچنے کے لیے اپنی مدد آپ کے تحت سولر توانائی اختیار کی۔
دی نیٹ ورک صارفین کے تحفظ کے ادارے کے چیف ایگزیکٹو ندیم اقبال نے کہا کہ نیپرا کی ذمہ داری ہے کہ وہ بجلی کو محفوظ، قابلِ اعتماد اور عوام کی پہنچ میں رکھے۔ اس کے ساتھ ساتھ پاکستان میں ہر شہری کو صاف اور صحت مند ماحول کا آئینی حق بھی حاصل ہے۔ ایسی کوئی بھی پالیسی جو صاف توانائی کی حوصلہ شکنی کرے، اس حق کے خلاف جاتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ آج کے حالات میں لوگ سولر بجلی منافع کے لیے نہیں بلکہ مہنگے بلوں، بار بار لوڈشیڈنگ اور ایندھن کی بڑھتی قیمتوں سے بچنے کے لیے لگا رہے ہیں۔ کئی گھرانے سولر کی مدد سے الیکٹرک موٹر سائیکلوں اور دیگر برقی سواریوں کی طرف جا رہے ہیں، جس سے تیل اور گیس پر انحصار کم ہو رہا ہے۔
نئی ریگولیشن کے تحت سولر بجلی کی خریداری کی قیمت کم کی جا رہی ہے، سولر سسٹم کی حد 150 فیصد سے کم کر کے 100 فیصد کی جا رہی ہے اور معاہدے کی مدت پانچ سال تک محدود کی جا رہی ہے۔ ان اقدامات سے خاص طور پر متوسط طبقہ متاثر ہوگا اور مستقبل میں سولر توانائی میں سرمایہ کاری کم ہو جائے گی۔
نیپرا یہ بھی مان چکا ہے کہ زیادہ ٹیکس، لیویز اور سرچارجز کی وجہ سے صارفین قومی گرڈ سے دور ہو رہے ہیں۔ ایسے میں سولر لگانے والوں کو سزا دینا کسی مسئلے کا حل نہیں۔ سولر صارفین کو بجلی کے نظام کے لیے خطرہ نہیں بلکہ مددگار سمجھا جانا چاہیے کیونکہ وہ بجلی کی طلب کم کرنے، ایندھن کی درآمدات گھٹانے اور ماحول کو بہتر بنانے میں کردار ادا کر رہے ہیں۔
دی نیٹ ورک صارفین کے تحفظ کا ادارہ حکومتِ پاکستان اور نیپرا سے مطالبہ کرتا ہے کہ نئی ریگولیشن پر نظرثانی کی جائے اور ایسی پالیسی بنائی جائے جو صارفین کے حقوق، عوامی صحت، سستی بجلی اور مستقبل میں فوسل فیول سے نجات کو ترجیح دے، تاکہ صاف توانائی ہر شہری کے لیے آسان اور قابلِ عمل رہے۔