وزیراعظم محمد شہباز شریف نے’’ اسلام آباد مفاہمتی یاداشت‘‘ پر بطور ثالث دستخط کردیئے۔وزیر اعظم آفس کے میڈیا ونگ کی طرف سے جمعرات کو جاری بیان کے مطابق’’ اسلام آباد مفاہمتی یاداشت‘‘ پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایران کے صدر مسعود پزشکیان کے دستخط موجود ہیں۔ قبل ازیں وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے امریکا اور ایران کے مابین ’’اسلام آباد مفاہمتی یادداشت ‘‘ پر دستخطوں کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ فوری نافذ العمل اس ایم او یو کے تحت پہلے مرحلے میں ایران فوری طور پر آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھول دے گا جبکہ امریکا فوری طور پر بحری ناکہ بندی ختم کر دے گا۔
وزیر اعظم نے ’’ایکس ‘‘پر اپنے پیغام میں کہا کہ مجھے یہ اعلان کرتے ہوئے انتہائی مسرت اور اعزاز حاصل ہو رہا ہے کہ آج ریاستہائے متحدہ امریکا اور اسلامی جمہوریہ ایران کے درمیان تاریخی ’’اسلام آباد مفاہمتی یادداشت‘‘ پر الیکٹرانک طور پر دستخط کر دیئے گئے ہیں۔ وزیر اعظم نے بتایا کہ یادداشت پر دونوں ممالک کے معزز صدور نے دستخط کیے ہیں جبکہ بطور ثالث انہوں نے بھی اس کی توثیق کی ہے۔ اس معاہدے پر متعلقہ حکومتوں کی اعلیٰ ترین سطح پر دستخط اس امر کا واضح ثبوت ہیں کہ دونوں فریق تنازع کے سفارتی حل کے لیے پرعزم ہیں۔ وزیر اعظم نے کہا کہ’’ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت‘‘ فوری طور پر نافذ العمل ہوگی اور اس کے پہلے مرحلے کے طور پر اسلامی جمہوریہ ایران فوری طور پر آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھول دے گا جبکہ ریاستہائے متحدہ امریکا فوری طور پر بحری ناکہ بندی ختم کر دے گا۔
وزیر اعظم نے کہا کہ میں ریاستہائے متحدہ امریکا کے صدر ڈونلڈ جے ٹرمپ کو اس ایم او یو کے طے پانے پر دلی مبارکباد پیش کرتا ہوں اور ان کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں کہ ان کی سفارت کاری سے غیر متزلزل وابستگی اور تنازعات کے پُرامن حل کو ترجیح دینے کی پالیسی نے ایک بار پھر ایسے بحران کے خاتمے میں مدد دی جو خطے اور دنیا کے لیے تباہ کن نتائج کا باعث بن سکتا تھا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ میں امریکی مذاکراتی ٹیم بشمول جے ڈی وینس، سٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کی انتھک محنت، لگن اور قابل قدر خدمات کو بھی سراہتا ہوں، جنہوں نے اس تاریخی کامیابی میں اہم کردار ادا کیا۔

وزیر اعظم نے کہا کہ وہ اسلامی جمہوریہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای اور صدر مسعود پزشکیان کے دانشمندانہ فیصلوں، دور اندیشی اور مدبرانہ قیادت کو بھی خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں جنہوں نے امن کے مقصد کو اپناتے ہوئے قابلِ قدر قیادت کا مظاہرہ کیا۔ وزیر اعظم نے ایرانی مذاکراتی ٹیم، بشمول محمد باقر قالیباف، عباس عراقچی اور اسکندر مومنی کی کاوشوں کو بھی سراہا، جن کے صبر، استقامت اور تعمیری مکالمے سے وابستگی نے اس معاہدے کو پایۂ تکمیل تک پہنچانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ انہوں نے خاص طور پر ریاست قطر کی قیادت کی مخلصانہ کوششوں اور مثبت کردار کا بھی اعتراف کیا جنہوں نے اس پیش رفت کے حصول میں اہم معاونت فراہم کی۔
وزیر اعظم نے کہا کہ وہ اس سلسلے میں مملکت سعودی عرب، جمہوریہ ترکیہ اور عرب جمہوریہ مصر کی قیادت کے ناگزیر کردار اور گرانقدر خدمات کو بھی انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ وزیر اعظم نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا خصوصی طور پر ذکر کیا اور کہا کہ ان کی انتھک کاوشیں، بے لوث وابستگی اور کلیدی کردار اس اہم پیش رفت کو ممکن بنانے اور امن و علاقائی استحکام کے فروغ میں نہایت اہم ثابت ہوئے۔ انہوں نے دعا کی کہ یہ مفاہمتی یادداشت پورے خطے میں باہمی افہام و تفہیم، احترامِ متقابل اور مشترکہ خوشحالی کے لیے ایک مضبوط اور پائیدار بنیاد ثابت ہو۔