غیر صحت بخش غذاؤں کے خلاف نوجوانوں سے آواز اٹھانے کی اپیل

0

پاکستان نیشنل ہارٹ ایسوسی ایشن (پناہ) کے زیر اہتمام گورنمنٹ کالج ویمن یونیورسٹی فیصل آباد میں نوجوانوں کے لیے ایک آگاہی سیشن منعقد کیا گیا، جس کا مقصد پاکستان میں غیر متعدی بیماریوں (NCDs) کے بڑھتے ہوئے خطرات سے آگاہی دینا اور طلبہ کو غیر صحت بخش الٹرا پروسیسڈ غذائی مصنوعات پر فرنٹ آف پیک وارننگ لیبلز (FOPWLs) کے لازمی نفاذ کی مہم میں فعال کردار ادا کرنے کی ترغیب دینا تھا۔

سیشن سے خطاب کرتے ہوئے پناہ کے سیکرٹری جنرل، جناب ثناء اللہ گھمن نے ذیابیطس، موٹاپے، امراضِ قلب اور دیگر غیر متعدی بیماریوں میں تشویشناک اضافے کے حوالے سے تفصیلی پریزنٹیشن دی۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں ہونے والی تقریباً 60 فیصد اموات کی وجہ غیر متعدی بیماریاں ہیں۔ انہوں نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ چینی، نمک اور غیر صحت بخش چکنائی سے بھرپور الٹرا پروسیسڈ غذاؤں کا ضرورت سے زیادہ استعمال صحت عامہ کے اس سنگین بحران میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔

جناب ثناء اللہ گھمن نے فرنٹ آف پیک وارننگ لیبلز (FOPWLs) کے حوالے سے اہم حقائق اور اعداد و شمار بھی پیش کیے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ نمایاں اور واضح انتباہی لیبلز صارفین کو مضر غذائی اجزاء کی زیادہ مقدار رکھنے والی مصنوعات کی شناخت، بہتر اور باخبر غذائی انتخاب اور اپنی صحت کے تحفظ میں مدد فراہم کرتے ہیں۔ انہوں نے چلی، میکسیکو اور دیگر ممالک کی کامیاب مثالیں پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان ممالک میں لازمی وارننگ لیبلز کا نفاذ صحت مند غذائی عادات کے فروغ اور صارفین کے تحفظ کے لیے ایک مؤثر پالیسی ثابت ہوا ہے۔

انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ پاکستان میں فرنٹ آف پیک وارننگ لیبلز کے لازمی نفاذ کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہر صارف کو یہ جاننے کا بنیادی حق حاصل ہے کہ وہ کیا کھا رہا ہے۔ انہوں نے نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ آگاہی پھیلانے اور صحت عامہ کے مؤثر قوانین کے لیے پناہ کی مہم میں بھرپور کردار ادا کریں۔

یونیورسٹی کی ڈائریکٹر ایکسٹرنل لنکیجز، محترمہ عائشہ سمین نے پناہ کی اس کاوش کو سراہتے ہوئے کہا کہ صحت مند طرزِ زندگی کے فروغ اور صحت عامہ کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے نوجوانوں اور تعلیمی اداروں کو متحرک کرنا نہایت اہم ہے۔ اس سیشن کا انعقاد ڈاکٹر صائمہ تحسین، ڈاکٹر رضوانہ بتول، ڈاکٹر عاقصہ پروین اور محترمہ عائشہ صدیقہ کی زیر نگرانی کیا گیا۔

پناہ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ ملک بھر میں نوجوانوں اور تعلیمی اداروں کو صحت عامہ کی آگاہی مہم میں شامل کرنے کا سلسلہ جاری رکھے گی۔ ادارے نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ صارفین کو باخبر انتخاب کا حق دینے اور پاکستان کے صحت مند مستقبل کو یقینی بنانے کے لیے فرنٹ آف پیک وارننگ لیبلز کا فوری طور پر لازمی نفاذ کیا جائے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.