ترنول سے 26 نمبر تک جی ٹی روڈ پر غیر قانونی سی این جی پمپس کی بھرمار
سی ڈی اے کی زمین پر این ایچ اے کا مبینہ قبضہ، عوام نے فوری کارروائی کا مطالبہ کر دیا
:اسلام آباد
وفاقی دارالحکومت کے نواحی علاقے ایک بار پھر قبضہ مافیا اور ادارہ جاتی ملی بھگت کی نذر ہو گئے۔ ترنول پھاٹک سے چونگی نمبر 26 تک جی ٹی روڈ کے دونوں اطراف غیر قانونی سی این جی پمپس قائم ہیں جنہیں مبینہ طور پر نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے) نے 2006 میں الاٹ کیا۔ ان الاٹمنٹس میں قواعد کی کھلی خلاف ورزی کی گئی اور کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کی زمین پر قبضہ جما لیا گیا۔
ذرائع کے مطابق این ایچ اے کو صرف 220 فٹ کی حدود میں سہولیات بنانے کا اختیار حاصل تھا لیکن پمپس 350 فٹ تک پھیلا دیے گئے۔ کئی پمپس جن کا سائز 80×300 فٹ ہونا تھا، اثرورسوخ استعمال کرتے ہوئے 110×300 فٹ تک بڑھا لیے گئے۔ اس طرح نہ صرف سی ڈی اے کی اراضی پر قبضہ کیا گیا بلکہ علاقے میں کمرشل سرگرمیوں کے باعث ٹریفک، آلودگی اور عوامی مشکلات میں اضافہ ہو گیا۔
قانونی ماہرین اور مقامی شہریوں کا کہنا ہے کہ این ایچ اے کو صرف 220 فٹ کی حد میں تعمیرات کی اجازت ہے جبکہ سی ڈی اے کے پاس سڑک کے دونوں اطراف 396 فٹ اراضی کا ملکیتی حق ہے۔ بلڈنگ ٹو بلڈنگ فاصلہ 616 فٹ بنتا ہے جس میں کسی بھی قسم کی تعمیر سی ڈی اے کی منظوری کے بغیر غیر قانونی ہے۔
شہریوں اور سماجی تنظیموں نے دعویٰ کیا ہے کہ قبضہ مافیا کو این ایچ اے کے بعض افسران کی سرپرستی حاصل ہے، جس کے باعث سی ڈی اے اپنی زمین واگزار کرانے میں ناکام رہی ہے۔ اس صورتحال نے نہ صرف عوامی مفاد کو نقصان پہنچایا بلکہ سرکاری اداروں پر عوامی اعتماد بھی مجروح کیا ہے۔
علاقہ مکینوں نے چیئرمین سی ڈی اے محمد علی رندھاوا اور کمشنر اسلام آباد سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے زور دیا ہے کہ ایک شفاف انکوائری کمیٹی تشکیل دی جائے جو 2006 کی الاٹمنٹس کا جائزہ لے، تجاوزات کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے اور سی ڈی اے کی زمین کو اصل نقشے کے مطابق واگزار کرایا جائے۔
مقامی شہریوں کا کہنا ہے کہ اسلام آباد جیسے منصوبہ بند شہر میں اس نوعیت کی بے ضابطگیاں تشویشناک ہیں۔ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو نہ صرف شہری نظام متاثر ہوگا بلکہ دارالحکومت کی خوبصورتی اور منصوبہ بندی بھی داؤ پر لگ جائے گی۔